واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوبارہ آغاز

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو گیا، جس میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور سکیورٹی معاملات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے اندر لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ سیاسی اور سکیورٹی امور ہیں، جن میں خاص طور پر جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے پیچھے ہٹنے کا طریقہ کار اور وقت شامل ہے۔
اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی جاری ہے۔ لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کے روز بھی اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں فائرنگ کر کے 2 شہریوں کو شہید اور ایک کو زخمی کر دیا۔
لبنانی اور اسرائیلی وفود کے درمیان ہونے والا یہ پہلا سیشن 8 گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد دوبارہ لبنانی فوجی وفد کی شرکت کے ساتھ بات چیت شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں 2 مارچ کے بعد پہلی بار کوئی فضائی حملہ نہیں ہوا، اقوام متحدہ
جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کا معاملہ جنگ بندی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازع بنا ہوا ہے۔
دوسری طرف حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ ان مذاکرات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مفاہمانہ مذاکرات سے لبنان کے لیے کسی اچھے نتیجے کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
حزب اللہ کے مطابق ان مذاکرات کی بنیاد ہی غلط اور مشکوک ہے اور اس کا اصل مقصد لبنان کو جھکنے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
ادھر حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے لبنانی عوام، فوج اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے خطرات اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری کی حفاظت کے لیے تمام قومی طاقتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا اور لبنانی حکام کو چاہیے کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے حزب اللہ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











