جمعرات، 2-جولائی،2026
جمعرات 1448/01/17هـ (02-07-2026م)

ایران اسرائیل تنازع پر بھارت کی خارجہ پالیسی منافقت اور موقع پرستی کا شکار ہے، ماہرین

02 جولائی, 2026 11:29

ایران اسرائیل تنازع کے دوران بھارت کی مبہم پوزیشن اور اب دوبارہ ایران سے اقتصادی قربت اختیار کرنے پر عالمی ماہرین نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو منافقانہ اور موقع پرستی پر مبنی قرار دے دیا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھارت کی خارجہ پالیسی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تحفظ اور تجارتی آزادی کو عالمی اور بھارتی مفاد قرار دیا، جبکہ یہ بات پہلے ہی ایران امریکہ 14 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت میں مودی حکومت کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک میں تیزی

تاہم، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ بیان ایران کی محبت میں نہیں بلکہ خالصتاً بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔

ماہرین نے مودی حکومت کے کردار کو موقع پرستی کی علامت قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سے محض دو روز قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور حملوں کے دوران بھارت مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا۔

بھارت نے نہ تو ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خود مختاری کے حق میں آواز اٹھائی۔

ماضی میں بھی بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کے لیے ایران سے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، جنگ سے پہلے اسرائیل سے شراکت داری، جنگ کے دوران خاموشی اور اب جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی خاطر دوبارہ ایران سے قربت اختیار کرنا بھارتی خارجہ پالیسی کے منافقانہ رخ کو عیاں کرتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔