امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات حل کرنے مواصلاتی چینل بنانے پر اتفاق

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے بتایا ہے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ کی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا، جبکہ تنازعات حل کرنے کے لیے مواصلاتی چینل بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری میڈیا کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد نے دوحہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان کے وفود کے ساتھ دو اہم ترین اجلاس مکمل کیے ہیں۔
پہلا اجلاس مانیٹرنگ اینڈ امپلی منٹیشن ورکنگ گروپ کا تھا، جو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بنائے گئے 4 بنیادی اداروں میں سے ایک ہے۔
ایرانی وفد نے اس میٹنگ کے دوران معاہدے کی شق نمبر ایک کے تحت امریکہ کی طرف سے کی جانے والی وعدہ خلافیوں کا معاملہ تفصیل سے اٹھایا، جس میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کا کہا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے دوحہ مذاکرات میں براہِ راست ملاقات کی پیشکش کی، جسے ایران نے مسترد کردی
اس کے علاوہ خطے میں امریکی افواج اور آلات کو مضبوط کرنے کی خبروں اور امریکی حکام کے مداخلت پسندانہ بیانات پر بھی سخت احتجاج کیا گیا۔
اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی تنازع کو حل کرنے کے لیے ایک فوری مواصلاتی چینل قائم کیا جائے گا تاکہ تمام مسائل کو باقاعدہ دستاویز کی شکل دے کر حل کیا جا سکے۔
دوسرا اجلاس قطری حکام اور وہاں کے مرکزی بینک کے ساتھ ہوا، جس میں ایران کے منجمد کیے گئے 6 ارب ڈالر کے فنڈز کی ریلیز پر بات چیت کی گئی۔
غریب آبادی کے مطابق ان فنڈز کے استعمال کے اخراجات پر اتفاق ہو گیا ہے اور ایران ان پیسوں کو اپنی لسٹ کے مطابق ضروری سامان خریدنے کے لیے استعمال کرے گا۔
اس اہم بیٹھک میں امریکہ کے مڈل ایسٹ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے شرکت کی، تاہم ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار یعنی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف اس میں شریک نہیں ہوئے بلکہ ان کی جگہ کاظم غریب آبادی نے تکنیکی ٹیم کی قیادت کی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












