پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے لیے 117 شخصیات کا مودی کو کھلا خط، بی جے پی سیخ پا

بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی 117 اہم شخصیات کی جانب سے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کے لیے لکھے گئے کھلے خط پر بی جے پی اور بھارتی شدت پسند آپے سے باہر ہو گئے۔
بھارت میں مودی حکومت اور بی جے پی کا جنگی جنون اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب وہاں پاکستان کے ساتھ امن اور مذاکرات کی بات کرنا بھی ایک سنگین سیاسی جرم بنتا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی 117 نمایاں ترین شخصیات نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ روابط، ویزوں، سفارتی تعلقات اور عوامی سطح پر رابطے بحال کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس مشترکہ امن اپیل پر مبنی خط پر بی جے پی اور بھارتی شدت پسند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور عمر فاروق شامل ہیں جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے سابق چیف ایس کے دلت نے بھی اس خط کے ذریعے مذاکرات کو ہی تمام مسائل کا بہترین حل قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ او پی شاہ اور منی شنکر سمیت بھارتی سول سوسائٹی کے 61 ممبران نے وزیر اعظم پاکستان سے فضائی روٹ کھولنے کی بھی درخواست کی ہے۔
اس امن پسند تجویز پر پاکستان کی ممتاز شخصیات جیسے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، محترمہ سلیمہ ہاشمی اور سابق سفیر اشرف جہانگیر کے دستخط بھی موجود ہیں، جنہوں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی نیوز چینلز ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کا براڈکاسٹ سسٹم ہیک کر لیا گیا
پاک بھارت تعلقات کی تجویز کا یہ کھلا خط دراصل بھارتی ادارے ”سینٹر فار پیس اینڈ پراگرس“ کی مخلصانہ کوشش تھی، لیکن بی جے پی حکومت کو یہ پاک بھارت امن قبول نہیں ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی شہ پر مخصوص بھارتی نیوز چینلز یعنی گودی میڈیا کو امن کی بات کرنے والوں کو غدار اور دہشت گرد قرار دینے کا کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے۔
گودی میڈیا نے امن اپیل کے اہم نکات پر بحث کرنے کے بجائے خط پر دستخط کرنے والی معزز شخصیات کی شدید کردار کشی شروع کر دی ہے اور انہیں ”امن کی آشا“ کا طعنہ دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بھارت میں اختلافِ رائے اور امن کی وکالت کو زبردستی ”پاکستان نوازی“ قرار دینے کا یہ خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مودی حکومت ہر اس آواز کو اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھتی ہے، جو امن کی بات کرتی ہے، کیونکہ بی جے پی حکومت کو اپنا سیاسی مستقبل صرف اور صرف پاکستان دشمنی کے چورن میں ہی نظر آتا ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی حکومت کا یہ جنگی جنون ہندو اکثریتی معاشرے کو پاکستان مخالف نعروں سے گمراہ کر رہا ہے جو کہ بھارت کو ایک ”ناکام ریاست“ کی طرف لے جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










