افغانستان میں القاعدہ اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے کئی تربیتی مراکز قائم ہیں، واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کے دور اقتدار میں افغانستان کے اندر القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے تربیتی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔
معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے وہاں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ تنظیم نے افغانستان کی سرزمین پر کم از کم 8 نئے تربیتی مراکز قائم کر لیے ہیں، جہاں جنگجوؤں کو تربیت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : الشباب، طالبان اور القاعدہ کے گٹھ جوڑ پر اہم انکشافات، افغانستان عالمی جہادی نیٹ ورکس کا مرکز بننے لگا
اس کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے بھی ہزاروں جنگجو افغانستان کے اندر موجود ہیں، جو خطے میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خوارج یعنی داعش خراسان کا نیٹ ورک بھی افغانستان کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہ اپنی پوزیشنز کو مضبوط کر رہا ہے۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود یہ تمام دہشتگرد نیٹ ورکس نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں، جس سے عالمی سیکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












