غزہ دنیا کا شرمناک ترین حراستی مرکز بن چکا ہے، مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت ہے، ترک صدر

ترک صدر کا کہنا ہے کہ غزہ دنیا کا سب سے غیر انسانی اور شرمناک حراستی مرکز بن چکا ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کا کام فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیے اور عالمی برادری کو اسرائیل پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جو کوششیں فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں، وہ ناکام ہو جائیں گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ 1967 کی سرحدوں کے اندر اور مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت کے طور پر ایک آزاد فلسطینی ریاست ضرور قائم ہوگی۔
ترک صدر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مسلسل دوسرے سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : بورڈ آف پیس کا غزہ تنازع کے پرامن حل سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کی عالمی حمایت کا خیرمقدم
انہوں نے کہا کہ ترکیہ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے ان تمام ممالک پر زور دیا جنہوں نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا، وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
غزہ کی انسانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے بتایا کہ غزہ بچوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قبرستان بن چکا ہے اور گزشتہ 3 سال کے دوران 74 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کے جنریٹرز کے لیے ایندھن کی قلت ہے اور غزہ اس دور کا سب سے شرمناک حراستی مرکز بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے طے پانے والے اکتوبر 2025 کے سیز فائر کے بعد بھی پندرہ سو500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ترک صدر نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو ایسے اصولوں کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے جہاں 190 سے زائد ممالک کی مرضی صرف 5 ممالک تک محدود نہ رہے۔ انہوں نے شام، عراق، یوکرین اور دیگر تنازعات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ دنیا میں منصفانہ عالمی نظام کا قیام ناگزیر ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








