پاکستان کے افغانستان پر حملوں میں 148 دہشت گرد ہلاک ہوئے : افغان ذرائع

افغان تجزیہ نگار احمد شریف زاد نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے فضائی حملوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس میں تحریکِ طالبان پاکستان اور افغان طالبان کو ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کی گئی ہے۔
احمد شریف زاد نے اپنے زرائع کے حوالے سے بتایا کہ پکتیکا کے علاقے ارگون میں طالبان کے دو اڈوں پر حملے کیے گئے جس میں پچیس دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ سرخ کے علاقے میں ایک مقامی کلینک میں قائم یونٹ پر حملے میں تیرہ دہشت گرد مارے گئے۔ اسی طرح برمل میں ایک مذہبی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جو دراصل "منصوری فورس کی خصوصی بریگیڈ” کا فوجی اڈہ تھا، جہاں تئیس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ خوگیانی کے علاقے میں ایک سرحدی چوکی کی تباہی کے نتیجے میں تقریباً تیس طالبان ہلاک ہوئے، جبکہ پچیر واقام میں ایک اور سرحدی چوکی پر حملے میں پچیس ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان مزاحمتی محاذ کی جانب سے پاکستان کو واخان کوریڈور کا کنٹرول سنبھالنے کی دعوت
انہوں نے بتایا کہ ایک انتہائی اہم کامیابی غنی خیل کے علاقے میں حاصل ہوئی، جہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے سینیئر رہنما مولوی اختر خلیل کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں مولوی اختر خلیل اپنے دس ساتھیوں سمیت جہنم واصل ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پہلی انفنٹری ڈویژن اور بہسود میں عوامی نظم و نسق کے بٹالین پر بھی حملے کیے گئے جس میں مجموعی طور پر اکیس سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔
احمد شریف زاد نے انکشاف کیا کہ افغان طالبان دانستہ طور پر صرف ان حملوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں شہری اموات ہوئیں تاکہ وہ خود کو مظلوم کے طور پر پیش کر سکیں اور سیاسی مقاصد حاصل کر سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان اس جانی نقصان کو اپنے حق میں لابی کرنے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ وہ ان حملوں میں اپنے درجنوں تربیت یافتہ دہشت گردوں اور فوجی اڈوں کی تباہی پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











