لبنان میں زمینی جنگ اسرائیلی معیشت پر بھاری پڑ سکتی ہے، رپورٹ

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق جنوبی لبنان میں ممکنہ زمینی حملہ اسرائیلی معیشت پر اربوں شیکل کا بوجھ ڈال سکتا ہے اور حکومت کو بجٹ میں مزید کٹوتیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں ممکنہ زمینی حملہ اسرائیل کے لیے اربوں شیکل کے اضافی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فوجی منصوبے کے اخراجات موجودہ دفاعی بجٹ میں شامل نہیں کئے گئے، جس کے باعث حکومت کو ممکنہ طور پر ریاستی بجٹ دوبارہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے زمینی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سرحدی دفاع کو مضبوط بنانا اور عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
تاہم اسرائیلی فوج کو کئی دنوں سے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کے دوران سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ حزب اللہ کے جنگجو مسلسل اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کے لبنان کے طبی مرکز پر حملہ، 12 کارکن شہید
یہ زمینی کارروائی ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے، جب اسرائیل کو سرحدی علاقوں میں مستقل کنٹرول قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
چند روز قبل اسرائیلی حکومت نے 2026 کے ریاستی بجٹ میں ترمیم کرتے ہوئے دفاعی اخراجات میں تقریباً چالیس ارب شیکل کا اضافہ کیا تھا۔ اسی کے ساتھ مختلف سرکاری وزارتوں کے بجٹ میں تین فیصد کمی بھی کی گئی تھی۔
تاہم نشریاتی ادارے کے مطابق لبنان میں ممکنہ بڑی زمینی کارروائی کے اخراجات اس اضافے میں شامل نہیں تھے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ میں توسیع ہوئی تو حکومت کو دوبارہ بجٹ میں تبدیلی کرنی پڑ سکتی ہے اور عوامی اخراجات میں مزید کمی کرنا پڑے گی۔
اسرائیل کے اندر اس معاملے پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے حکومت نے اپنے سیاسی اتحادیوں کو تقریباً چھ ارب شیکل کے فنڈز بھی فراہم کئے تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران عوامی خدمات میں کمی کرتے ہوئے سیاسی فنڈز دینا معاشی پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ممکنہ زمینی حملے کی تیاری کے لیے چار لاکھ پچاس ہزار تک ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












