ایران نے دوران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں 19 میں سے 13 فوجے اڈے تباہ کردیئے، ماہر

سابق امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جہاں 19 میں سے 13 اہم ترین فوجی اڈے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو کر غیر فعال ہو چکے ہیں۔
امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی کے سابق مشیر اور دفاعی ماہر ڈیوڈ پائین کے مطابق خطے میں موجود امریکہ کے 19 بڑے فوجی اڈوں میں سے 13 اڈے اس وقت مکمل طور پر تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔
ان اڈوں کی تباہی سے امریکہ کو نہ صرف تزویراتی طور پر بڑا دھچکا لگا ہے بلکہ ان کی دوبارہ تعمیر پر کئی دہائیاں اور اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق قطر میں واقع العدید ایئر بیس، جو خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کا مرکز تھا، متعدد براہ راست حملوں کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر مالیت کا جدید ترین ریڈار سسٹم اور دیگر اہم آلات تباہ ہو گئے، جس سے یہ بیس اب غیر فعال ہو چکا ہے۔
اسی طرح کویت میں واقع کیمپ بیوہرنگ کو اس قدر شدید نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ اب رہائش کے قابل بھی نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس پر موجود سیٹلائٹ اور ریڈار نظام کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ نے نیٹو کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی!
بحرین میں مقیم امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر سے بحری جہازوں کو ہنگامی بنیادوں پر نکالنا پڑا اور وہاں کا کمانڈ سینٹر اب محض نام کا رہ گیا ہے۔
ڈیوڈ پائین کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے جدید ترین میزائلوں اور بڑے جنگی ڈرونز کی وجہ سے امریکہ پر برتری حاصل ہے، کیونکہ ایرانی میزائلوں کی تعداد امریکی دفاعی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امریکہ نے اپنے فضائی دفاعی نظام کا بڑا حصہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے وقف کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی تنصیبات ایرانی حملوں کے سامنے بے بس نظر آئیں۔
ان حملوں کے بعد امریکہ کو اپنی افواج کی دوبارہ تعیناتی پر مجبور ہونا پڑا ہے اور جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار پینٹاگون کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











