ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران مذاکراتی ٹیم میں کٹر صیہونی لابی کے حامی نک اسٹیورٹ شامل

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکراتی ٹیم میں نک اسٹیورٹ کو شامل کیا ہے، جو ماضی میں تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی کھلے عام مخالفت کر چکے ہیں اور ان کا تعلق ایک طاقتور صیہونی لابی گروپ سے ہے۔
گرے زون کی رپورٹ کے مطابق، نک اسٹیورٹ اس سے قبل واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ انہیں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مشیر کے طور پر منتخب کیا ہے۔
نک اسٹیورٹ کا تعلق ‘فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ نامی ادارے سے ہے، جو واشنگٹن میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے سب سے مضبوط لابی گروپ سمجھا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2024 میں نک اسٹیورٹ نے دلیل دی تھی کہ ایران کے اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان کو بھی بدترین دشمن سمجھا جانا چاہیے کیونکہ وہ ایران کے مروجہ نظام کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا امریکہ سے 119 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ
نک اسٹیورٹ جس تنظیم سے وابستہ ہیں، اس کا اصل نام ‘ایمت’ تھا، جس کا عبرانی میں مطلب ‘سچائی’ ہے اور اس کا بنیادی مقصد شمالی امریکہ میں اسرائیل کا مثبت امیج بنانا ہے۔
2017 میں ایک اعلیٰ اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار نے انکشاف کیا تھا کہ یہ تنظیم امریکہ میں فلسطین کے حق میں مہم چلانے والے کارکنوں کی جاسوسی کی اسرائیلی مہم کا حصہ تھی۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران پر حملے کے لیے جو جواز تراشے، وہ بھی اسی تنظیم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضامین سے لیے گئے تھے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے شخص کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ کسی بامقصد تصفیے کے بجائے دباؤ اور محاذ آرائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











