پینٹاگون کا غیر آزمودہ میزائل سسٹم ایران کے خلاف تعینات کرنے کا فیصلہ، ماہرین کی تنقید

امریکہ ایران کے خلاف اپنے نقائص سے بھرپور ہائپرسونک میزائل سسٹم ‘ڈارک ایگل’ کو تعینات کرنے کی ہنگامی تیاری کر رہا ہے، باوجود اس کے کہ یہ سسٹم اب تک کے تمام تجربات میں ناکام رہا ہے اور جنگ کے لیے تیار نہیں ہے۔
امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنے غیر آزمودہ اور تکنیکی طور پر ناکام ہائپرسونک میزائل سسٹم ‘ڈارک ایگل’ کو ایران کے خلاف محاذ پر بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ سسٹم ابھی تک میدانِ جنگ کے لیے تیار نہیں ہے اور حالیہ تجربات کے دوران یہ متعدد بار لانچ ہونے میں ناکام رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام اس وقت شدید دباؤ میں ہے کیونکہ اس کے پاس موجود ‘پریسیشن اسٹرائیک میزائل’ کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے اور وہ اپنے لانچرز کو ایران کی رسد سے دور رکھنے کے لیے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکی ہے۔
ڈارک ایگل سسٹم نہ صرف لانچنگ کے مسائل کا شکار ہے بلکہ اس کی تیاری میں بھی سنگین نقائص پائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے اس کی مکمل جنگی آزمائش 2027 کے اوائل تک ملتوی کر دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران مذاکراتی ٹیم میں کٹر صیہونی لابی کے حامی نک اسٹیورٹ شامل
ایک میزائل کی قیمت تقریباً 41 ملین ڈالر ہے، جسے ماہرین ایران جیسے ملک کے خلاف ایک غیر ضروری اور مہنگا سودا قرار دے رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ محض بجٹ حاصل کرنے کے لیے ایک غیر ثابت شدہ سسٹم کو زبردستی میدان میں اتار رہے ہیں تاکہ مزید فنڈز کا مطالبہ کیا جا سکے۔
پینٹاگون کی اس جلد بازی کو تزویراتی پاگل پن قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب صدر ٹرمپ خلیج کی بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا واشنگٹن واقعی اتنا مجبور ہو چکا ہے کہ اسے ناکام ہتھیاروں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، یا پھر یہ سب کچھ دفاعی کمپنیوں کی جیبیں بھرنے کے لیے ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش ہے؟
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












