ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا مقصد دنیا کو امریکہ سے تیل خریدنے پر مجبور کرنا ہے، رپورٹ

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا مقصد آبنائے ہرمز کھولنا نہیں ہے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ایران سے تیل خریدنے کے بجائے امریکہ سے تیل خریدے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ نے ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی ٹریفک کی سخت بحری ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، خطے میں اس وقت کم از کم 15 امریکی بحری جہاز موجود ہیں، جن میں ایک طیارہ بردار بیڑا اور 11 گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن جہاز شامل ہیں۔
اگرچہ یہ جہاز مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے ہیں، لیکن انہیں کسی بھی وقت ناکہ بندی کے عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
طیارہ بردار بیڑا جیرالڈ فورڈ، جو پہلے یونان میں مرمت کے لیے موجود تھا، اب مشرقی بحیرہ روم میں آپریٹ کر رہا ہے اور اسے ناکہ بندی میں حصہ لینے کے لیے نہر سویز یا افریقہ کے گرد طویل راستے سے گزرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اعلانِ جنگ قرار دے دی، مزاحمتی محاذ کو الرٹ رہنے کا حکم
اس ناکہ بندی کے پیچھے صدر ٹرمپ کا ایک معاشی ایجنڈا بھی نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے اور خالی تیل بردار جہاز اس وقت امریکہ کی طرف آ رہے ہیں تاکہ وہ امریکہ سے بہترین اور معیاری تیل اور گیس لوڈ کر سکیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس دنیا کے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بھی زیادہ اور بہتر کوالٹی کا تیل موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ درحقیقت آبنائے ہرمز کو کھلا نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ایران سے تیل خریدنے کے بجائے امریکہ سے تیل خریدے، جو کہ ایک گہری معاشی چال معلوم ہوتی ہے۔
اسرائیل، سعودی عرب اور عمان کے ساحلوں کے قریب پہلے ہی متعدد امریکی تباہ کن جہاز جیسے گونزالیز، بلکلے اور آسکر آسٹن تعینات ہیں۔
بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں ابراہم لنکن طیارہ بردار بیڑا اور متعدد معاون جہاز موجود ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ نے سعودی عرب، اسرائیل اور عمان میں اپنے فضائی اڈوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے تاکہ بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












