چین کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے امریکی فوجی برتری کو چیلنج کرنے کا بہترین منصوبہ

پینٹاگون کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ چین ڈیپ سیک اور تیانجی جیسے اے آئی ماڈلز کے ذریعے وہ جنگی مہارت حاصل کر رہا ہے، جو امریکہ نے عراق اور افغانستان میں دہائیوں کے دوران حاصل کی تھی۔
چین نے 1989 کے بعد سے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی، جس کی وجہ سے اس کے پاس وہ جنگی تجربہ نہیں ہے، جو امریکی فوج کے پاس موجود ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چین اب مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہا ہے۔
چینی ماہرین نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے، جو صرف 48 سیکنڈز میں 10 ہزار مختلف جنگی منظرناموں کا تجزیہ کر سکتا ہے، جبکہ انسانی منصوبہ سازوں کو صرف چند منظرناموں پر غور کرنے کے لیے دو دن درکار ہوتے ہیں۔
تیانجی نامی کلاؤڈ بیسڈ دماغ لاکھوں سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ دستاویزات کا بیک وقت تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے ایک ایسا اے آئی کمانڈر بھی بنایا ہے، جسے چین کے عظیم فوجی مفکرین کی حکمت عملیوں پر تربیت دی گئی ہے اور اسے اعلیٰ سطح کی جنگی مشقوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فضائیہ چین کے خلاف طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی
ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی چین نے ایک بڑا سنگ میل عبور کیا ہے۔ چینی سائنسدانوں نے ہاک اور ڈو یعنی عقاب اور کبوتر کے نام سے ڈرونز کے گروہ تیار کیے ہیں۔
تجربات کے دوران ان عقاب نما ڈرونز نے کسی انسانی مداخلت کے بغیر صرف پانچ اشاریہ تین سیکنڈز میں دشمن کے تمام پانچ ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
پینٹاگون نے اپنی 2025 کی کانگریس رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ چین نے مصنوعی ذہانت کی کارکردگی میں امریکہ کے ساتھ فاصلہ بہت کم کر دیا ہے۔ چین اب کم قیمت پر وہ نتائج حاصل کر رہا ہے، جس کے لیے امریکہ کو بھاری کمپیوٹر پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگ اب گولیوں سے زیادہ کوڈنگ اور ڈیٹا کے ذریعے لڑی جائے گی، جہاں چین بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












