جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

امریکی فضائیہ چین کے خلاف طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی

17 اپریل, 2026 13:06

مغربی دفاعی ماہرین اور مختلف تھنک ٹینکس کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹوں میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ بحرالکاہل میں چین کے خلاف کسی بڑی اور طویل جنگ کو جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

مچل انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے بجٹ میں کٹوتی اور طیاروں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے امریکی فضائیہ کے پاس اب نہ تو اتنے طیارے بچے ہیں اور نہ ہی پائلٹ جو چین جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکیں۔

2025 کی جنگی مشقوں کے نتائج سے یہ ثابت ہوا ہے کہ امریکی فضائیہ زیادہ سے زیادہ چند دنوں تک ہی فضائی حملے جاری رکھ سکتی ہے، جس کے بعد چین کو دوبارہ منظم ہونے اور جوابی حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔

ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی اثاثے انتہائی غیر محفوظ مقامات پر پڑے ہیں، جنہیں چینی میزائل جنگ کے پہلے ہی دن نشانہ بنا کر تباہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف تعینات امریکی بحری بیڑوں پر خوراک کا بحران، غیر معیاری کھانا فراہم کیے جانے کا انکشاف

اس تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کے پاس اتنی درستگی والے میزائل موجود ہیں کہ وہ جاپان میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے رن ویز کو گیارہ دنوں کے لیے اور ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کے اڈوں کو تینتیس دنوں تک بند کر سکتے ہیں۔

رینڈ کارپوریشن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل کی جنگ میں مواصلاتی نظام کی تباہی اور وسائل کی کمی ایک بڑا چیلنج ہوگی، جس کے لیے امریکی فضائیہ ابھی تیار نہیں ہے۔

اگر تائیوان کے محاذ پر جنگ چھڑتی ہے تو امریکی فضائیہ کو ایندھن، ہتھیاروں اور مرمت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر امریکہ اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اگلے ایک عشرے تک دفاعی بجٹ میں بھاری اضافہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر چین اس خطے میں مکمل غلبہ حاصل کر لے گا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔