بدھ، 22-اپریل،2026
بدھ 1447/11/05هـ (22-04-2026م)

انسانی المیہ یا کاروباری موقع، ایران جنگ سے بینکوں اور دفاعی کمپنیوں کا اربوں ڈالر کا ریکارڈ منافع

22 اپریل, 2026 10:09

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی جہاں دنیا بھر کے لیے تشویش کا باعث ہے، وہی وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں اور دفاعی کمپنیوں کے لیے یہ سونے کی کان ثابت ہو رہی ہے۔ جے پی مورگن اور سٹی گروپ جیسے اداروں نے جنگی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔

جدید عالمی سیاست اور معیشت کا ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ جہاں قومیں جنگ کے شعلوں میں جلتی ہیں، وہیں مالیاتی اشرافیہ ان شعلوں سے سونا کشید کرتی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ تنازع اس کی واضح مثال ہے۔ جے پی مورگن چیز کے سربراہ جیمی ڈائمن نے حال ہی میں ایران کو سزا کا مستحق قرار دیا، لیکن اسی دوران ان کا بینک اس کشیدگی سے ریکارڈ منافع سمیٹنے میں مصروف رہا۔

یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ کارپوریٹ طاقت اکثر جنگ کی زبان بولتی ہے کیونکہ امن کے مقابلے میں بدامنی ان کے لیے زیادہ منافع بخش ہوتی ہے۔

سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران جب ایران کے ساتھ تناؤ عروج پر تھا، امریکہ کے بڑے بینکوں نے تاریخ ساز نتائج پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کے ایران متعلق بیانات سے کروڑوں ڈالرز کی کمائی کا انکشاف

جے پی مورگن نے 11.6 ارب ڈالر کی تجارتی آمدنی حاصل کی، جو اس کی تاریخ کی کسی بھی سہ ماہی کا سب سے بڑا حجم ہے۔

سٹی گروپ کے منافع میں 42 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گولڈمین سیکس اور مورگن اسٹینلے نے بھی تیل، کرنسی اور اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

بینکوں کے نزدیک یہ صحت مند اتار چڑھاؤ ہے، لیکن ایک عام خاندان کے لیے اس کا مطلب ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی کا طوفان ہے۔

صرف بینک ہی نہیں بلکہ تیل کی بڑی کمپنیاں جیسے ایکسون موبیل اور شیل، اور دفاعی صنعت کے بڑے نام جیسے لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین بھی اس جنگ سے براہ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جب بھی میزائلوں کی طلب بڑھتی ہے، ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

تاریخی مطالعہ بتاتا ہے کہ پرتشدد تنازعات کے دوران غیر ملکی بینک فوجی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھا دیتے ہیں، جس سے جنگیں معاشی طور پر خود کفیل ہو جاتی ہیں اور امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا استحصالی نظام ہے جہاں اشرافیہ تجارت کرتی ہے اور عوام اپنی جیبوں اور جانوں سے اس کی قیمت چکاتے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔