جمعرات، 23-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/06هـ (23-04-2026م)

خلائی ٹیکنالوجی میں چین کی بڑی کامیابی، امریکی بحریہ کی نگرانی کے لیے نیا ریڈار نظام تیار

23 اپریل, 2026 09:21

چین نے زمین سے 35 ہزار کلومیٹر کی بلندی سے امریکی بحری بیڑوں اور تجارتی جہازوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرنے والا جدید ترین ریڈار سیٹلائٹ سسٹم کامیابی سے تیار کر لیا ہے۔

جدید بحری جنگ کے میدان میں چین نے ایک ایسی کامیابی حاصل کر لی ہے، جسے ماہرین جادوئی آنکھ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

چین نے کامیابی کے ساتھ جغرافیائی مدار میں کام کرنے والے ایک ایسے ریڈار سیٹلائٹ کا مظاہرہ کیا ہے، جو زمین سے 35 ہزار آٹھ سو کلومیٹر کی بلندی سے سمندر میں حرکت کرتے ہوئے اہداف کا پیچھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ شدید ترین طوفانوں، گھنے بادلوں اور گھپ اندھیرے میں بھی اپنے ہدف کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی۔

حالیہ تجربے کے دوران اس نظام نے جزائر اسپیراٹلی کے قریب تین سو چال میٹر طویل جاپانی ٹینکر کو کامیابی سے ٹریک کر کے اپنی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔

اس سیٹلائٹ کی فراہم کردہ معلومات میں غلطی کا امکان محض ایک سے تین کلومیٹر کے درمیان رہا ہے، جو کہ دور مار اینٹی شپ میزائلوں کے لیے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کے جے 3000، چینی فضائیہ کا نیا کمانڈ سینٹر، امریکی فضائی برتری کیلئے چیلنج

ماضی میں استعمال ہونے والے نچلے مدار کے سیٹلائٹس صرف چند منٹوں کے لیے کسی خاص علاقے کے اوپر سے گزرتے تھے، لیکن چین کا یہ نیا نظام چوبیس گھنٹے مسلسل نگرانی فراہم کرتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین ایسے صرف تین سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ پوری دنیا میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں کی نقل و حرکت پر مستقل نظر رکھ سکے گا۔

اس پیش رفت سے تائیوان یا جنوبی بحیرہ چین کی جانب بڑھنے والے امریکی بیڑوں کی قبل از وقت نشاندہی ممکن ہو جائے گی۔

پینٹاگون کے منصوبہ ساز اب ایک نئی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں سمندر میں جہازوں کا روپوش ہونا شاید اب ماضی کا قصہ بن جائے۔

امریکی بحریہ طویل عرصے سے خراب موسم، طویل فاصلے اور سیٹلائٹ کی کوریج میں موجود وقفوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھتی تھی، لیکن اب یہ تحفظ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ اس ٹیکنالوجی کی کچھ حدود بھی ہیں، جیسے کہ ابھی اسے صرف تجارتی جہازوں پر آزمایا گیا ہے اور جنگی جہازوں کی تیز رفتار چالوں کے خلاف اس کی کارکردگی کا امتحان باقی ہے، مگر یہ چین کو ایک ایسا نیٹ ورک فراہم کرتا ہے، جسے جنگ کے دوران تباہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

اگر چین نے اس خلائی نگرانی کو اپنے ڈرونز، زیرِ آب سینسرز اور لانگ رینج میزائلوں کے ساتھ منسلک کر دیا تو بحر الکاہل میں امریکی کمانڈروں کے لیے جوابی کارروائی یا بچاؤ کا وقت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔