بدھ، 22-اپریل،2026
بدھ 1447/11/05هـ (22-04-2026م)

کے جے 3000، چینی فضائیہ کا نیا کمانڈ سینٹر، امریکی فضائی برتری کیلئے چیلنج

22 اپریل, 2026 14:41

چین نے اپنی فضائیہ کو جدید ترین خطوط پر استوار کرتے ہوئے اگلی نسل کے فضائی انتباہی اور کنٹرول طیارے ‘کے جے 3000’ کے دوسرے پروٹو ٹائپ کی آزمائشی پروازیں شروع کر دی ہیں، جو امریکی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔

چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس نے خاموشی سے اپنی فضائی طاقت میں ایک ایسی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے، جو مستقبل کی ممکنہ جنگوں کا نقشہ بدل سکتی ہے۔

چین نے اپنے جدید ترین فضائی انتباہی اور کنٹرول طیارے ‘کے جے 3000’ کے دوسرے پروٹو ٹائپ کی انتہائی سخت آزمائشی پروازیں شروع کر دی ہیں۔

یہ طیارہ محض ایک جاسوس طیارہ نہیں بلکہ ایک متحرک فضائی کمانڈ سینٹر ہے، جو خاص طور پر امریکہ کے ‘اسٹیلتھ’ یعنی ریڈار کی آنکھ سے اوجھل ہونے والے طیاروں اور بمباروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طیارہ 2026 یا 2027 تک مکمل طور پر آپریشنل ہو کر چینی فضائیہ کا حصہ بن جائے گا۔

اس طیارے کی سب سے بڑی طاقت اس کے اوپر نصب تیسری نسل کا عظیم الجثہ ‘فل کوریج ڈیجیٹل ایرے ریڈار’ ہے، جو حجم میں امریکہ کے ای تھری جی سینٹری طیاروں کے ریڈار سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی فضائیہ چین کے خلاف طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی

اس ریڈار میں ‘گیلئم نائٹرائڈ’ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جو روایتی ریڈاروں کے برعکس مکمل طور پر سافٹ ویئر کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہے۔

یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف روایتی طیاروں بلکہ انتہائی تیز رفتار ہائپر سونک اور بیلسٹک میزائلوں کو بھی طویل فاصلے سے مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ریڈار امریکہ کے بی ٹو اے اور مستقبل کے جدید ترین بی 21 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کو بھی پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے امریکہ کی فضائی برتری کا بڑا دعویٰ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

'کے جے 3000'

ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ‘کے جے 3000’ کو ایک ‘کل ویب’ کمانڈ سینٹر کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ وائی 20 بی کے بڑے پلیٹ فارم پر بنایا گیا ہے، جس میں نصب طاقتور کمپیوٹرز بیک وقت اسٹیلتھ فائٹرز، ڈرونز، بحری بیڑوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں۔

اس طیارے میں چین کے مقامی طور پر تیار کردہ ڈبلیو ایس 20 انجن استعمال کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ایندھن کی بچت کرتے ہیں بلکہ اتنی زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں، جس سے طیارے کے جدید الیکٹرانک نظام اور طاقتور ریڈار کو مسلسل چلایا جا سکتا ہے۔

ہند و بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی عسکری سرگرمیوں کے درمیان چین کا یہ نیا ‘انٹیل حب’ واشنگٹن کے لیے ایک ایسا چیلنج ہے، جسے اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔