جمعہ، 24-اپریل،2026
جمعہ 1447/11/07هـ (24-04-2026م)

تیل اور عالمی طاقت کا بدلتا توازن، خلیجی ممالک کی نئی حکمت عملی سے پیٹرو ڈالر کا زوال

24 اپریل, 2026 12:18

ستر کی دہائی سے قائم ڈالر کی حکمرانی کا پیٹرو ڈالر نظام اب مشرق وسطیٰ کی جنگ اور امریکی مالیاتی دباؤ کی وجہ سے بکھرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

پچھلی پانچ دہائیوں سے عالمی تیل کی تجارت امریکی ڈالر میں ہونے کی وجہ سے ڈالر کو دنیا کی سب سے طاقتور کرنسی کا درجہ حاصل رہا ہے، لیکن اب یہ نظام اپنی تاریخ کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔

خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جنہوں نے اپنے ڈالر کے ذخائر کو امریکی اثاثوں میں دوبارہ لگا کر ڈالر کی برتری کو برقرار رکھا تھا، اب اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔

اس تبدیلی کی بڑی وجہ امریکہ پر اعتماد میں کمی اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کے اندرونی سیاسی اور معاشی مسائل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : واشنگٹن کی جنگیں اور بیجنگ کی حکمت عملی، عالمی مالیاتی نظام کی تبدیلی کا آغاز

چین نے اپنے یوآن کی ادائیگیوں کے نظام کو وسیع کر دیا ہے اور برکس ممالک اب غیر ڈالر تجارت پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

اگر خلیجی ممالک نے تیل کی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیاں قبول کرنا شروع کر دیں، تو یہ امریکی مالیاتی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

امریکہ خود بھی اس وقت پینتیس ٹریلین ڈالر سے زائد کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس کے بڑھتے ہوئے خسارے ڈالر کی عالمی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔

پیٹرو ڈالر نظام کا خاتمہ صرف ایک کرنسی کی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک ایسی تبدیلی ہوگی جو واشنگٹن کی دہائیوں پر محیط معاشی اور سیاسی برتری کو ختم کر سکتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔