جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود بچوں کی نسل کشی جاری، اکتوبر سے اب تک 187 شہید، رپورٹ

30 اپریل, 2026 11:53

انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اکتوبر سے اب تک سینکڑوں بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں کی زندگی نفسیاتی صدمات اور معذوری کی لپیٹ میں ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر نے غزہ کے بچوں کے حوالے سے ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 187 معصوم فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا نشانہ سب سے زیادہ بچے ہی بن رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران تقریباً ساڑھے 7 لاکھ بچے بے گھر ہو چکے ہیں اور وہ کھلے آسمان تلے یا عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے اسرائیل کے کہنے پر عراق اور شام کو برباد کیا، سابق امریکی اعلیٰ عہدیدار

اس سے بھی زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ غزہ میں اب تک 45 ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں، جن کا دنیا میں کوئی سہارا باقی نہیں رہا۔ تقریباً 21 ہزار بچے مختلف حملوں کے نتیجے میں عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔

تعلیم کا نظام مکمل طور پر تباہ ہونے کی وجہ سے 6 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے دور ہیں، جس سے ان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ غزہ کا ہر بچہ اس وقت شدید نفسیاتی صدمے اور مابعد صدمہ تناؤ یعنی پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہے، جو ان کی آنے والی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور اسرائیل کو ان جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرائے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔