یو اے ای پر مبینہ ایرانی حملے، برطانیہ، فرانس سمیت عالمی طاقتوں کی شدید مذمت

برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور جرمنی سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
لندن، پیرس اور برلن سے اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایران کے ان اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب اشتعال انگیزی کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے خلیجی ممالک کے دفاع کے لیے اپنے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے بامعنی مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ ایک طویل مدتی سفارتی حل نکالا جا سکے۔ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اپنے شراکت داروں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی تہران کے ان حملوں کو غیر منصفانہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں صدر میکرون نے متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر اتحادیوں کی علاقائی سالمیت اور دفاع کے لیے فرانس کی مسلسل حمایت کا عہد کیا۔
انہوں نے جاری تنازع کے مستقل حل کے لیے دو بنیادی شرائط پیش کیں، جن میں آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمد و رفت کے لیے فوری کھولنا اور علاقائی ممالک کو سیکیورٹی ضمانتوں کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط معاہدہ شامل ہے۔
فرانسیسی صدر نے ایرانی جوہری سرگرمیوں، بیلسٹک صلاحیتوں اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا آبنائے ہرمز میں چھ ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ، ایران کی تردید
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید اور وہاں کے عوام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ کینیڈا نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کے راستے کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خطے اور پوری دنیا کو یرغمال بنانا بند کرے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔
جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ تہران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اتحادیوں کے خلاف مزید حملے برداشت کیے جائیں گے۔
انہوں نے ایران کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی دعوت دی تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












