آبنائے ہرمز کا بحران چین کے لیے تزویراتی سبق، تائیوان پر دباؤ کا نیا ماڈل تیار

آبنائے ہرمز کا جاری بحران چین کو یہ سکھا رہا ہے کہ وہ کس طرح مکمل جنگ کے بغیر تائیوان جیسے حریفوں پر سمندری ناکہ بندی کے ذریعے دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ چین کے اپنے وسیع توانائی ذخائر اسے محفوظ رکھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی چین کے لیے ایک بہترین تجربہ گاہ ثابت ہو رہی ہے، جہاں بیجنگ یہ سیکھ رہا ہے کہ کس طرح سمندری راستوں کی بندش کے ذریعے دشمن کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔
یہ بحران خاص طور پر تائیوان کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے کیونکہ اس نے تائیوان کی توانائی کی انتہائی کمزوری کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔
چین نے برسوں کی منصوبہ بندی کے بعد اپنے پاس سات ماہ کے درآمدی تیل کے ذخائر جمع کر رکھے ہیں، جبکہ اسے روس سے آنے والی پائپ لائنوں اور اپنی مقامی پیداوار کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔
صدر شی جن پنگ کی متوازن پالیسی اور عالمی سطح پر متنوع معاہدوں نے چین کو اس عالمی بحران میں ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کر دی ہے، جس کی وجہ سے بیجنگ اب خطے میں استحکام کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران تنازع میں چین کی انٹری، بیجنگ نے باضابطہ ثالثی کی پیشکش کر دی
اس کے برعکس تائیوان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اپنی ایٹمی توانائی کو ختم کرنے کے بعد تائیوان کی تراسی فیصد بجلی درآمدی گیس اور کوئلے پر منحصر ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں تائیوان کے پاس صرف گیارہ دن کی ایل این جی (قدرتی گیس) باقی بچتی ہے۔
چین اس صورتحال کو ‘گرے زون’ حکمت عملی کے لیے استعمال کر رہا ہے، یعنی مکمل جنگ کے بجائے انشورنس کی قیمتیں بڑھا کر اور بحری راستوں میں غیر یقینی پیدا کر کے تائیوان کی معیشت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی ڈیٹرنس کی ناکامی نے چین کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ وہ معاشی اور صنعتی طاقت کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
بیجنگ کی اس اسٹریٹجک صبر اور تیاری نے اسے ایشیا میں توانائی کی حفاظت کا ماڈل بنا دیا ہے، جبکہ تائیوان کے لیے یہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












