پیر، 11-مئی،2026
پیر 1447/11/24هـ (11-05-2026م)

صیہونی افواج کی جانب سے چرچ اور خانقاہوں کی بے حرمتی کا انکشاف

11 مئی, 2026 09:37

تاریخی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ صیہونی گروہ 1947 سے ہی فلسطین میں مسیحی عبادت گاہوں کی لوٹ مار اور بے حرمتی میں ملوث رہے ہیں، جو اب لبنان تک پھیل چکی ہے۔

فلسطین پر صیہونی قبضے کے دوران مسیحی عبادت گاہوں اور خانقاہوں کے خلاف کیے جانے والے مظالم کی ایک طویل اور سیاہ تاریخ سامنے آئی ہے۔

نیشنل کیتھولک ویلفیئر کونسل نیوز سروس کی ستمبر 1948 کی ایک تاریخی رپورٹ کے مطابق، صیہونی مسلح گروہوں نے فلسطین کے قبضے کے دوران متعدد گرجا گھروں میں لوٹ مار کی اور وہاں موجود مقدس اشیاء کی بے حرمتی کی۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے سے اسرائیل کو تشویش

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان دستاویزات میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ یہودی فوجیوں نے مسیحی مذہبی تبرکات پر قبضہ کیا اور کیتھولک چرچ کی ملکیت گھریلو سامان اور غذائی اجناس تک چوری کر لیں۔

اسی طرح 1953 کے کیتھولک بلیٹن میں مسیحی گاؤں کفر برعم کی کہانی بیان کی گئی ہے، جہاں اسرائیلیوں نے ایک قدیم چرچ کو نہ صرف لوٹا بلکہ اس کی شدید بے حرمتی بھی کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان میں حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مسیحی مزارات اور عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے آباؤ اجداد کے اسی پرانے طرز عمل کا تسلسل ہے، جو دہائیوں سے جاری ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔