معاشی محاصرہ ختم اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ، امریکی تجویز پر ایرانی جواب

ایران نے امریکی تجویز کے جواب میں معاشی محاصرے کے فوری خاتمے اور ایرانی تیل کی عالمی منڈیوں تک بلارکاوٹ رسائی کی ضمانت مانگ لی ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کو مذاکرات کی سرخ لکیر قرار دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی امن تجویز کے جواب میں نہایت سخت اور واضح شرائط پیش کی ہیں۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد معاشی محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور ایرانی تیل کی برآمدات کو مکمل آزادی فراہم کرنے کی تحریری ضمانت دی جائے۔
پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے اس تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا پہلا قدم جنگ کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔
ایران نے زور دیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات (او ایف اے سی) کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد تمام قدغنیں ہٹائی جائیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کو بغیر کسی تاخیر کے واگزار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران یورینیم افزودگی روکنے پر آمادہ ہو گیا، امریکی اخبار کا دعویٰ تہران نے مسترد کردیا
اس جواب میں لبنان کا ذکر بھی خاص طور پر کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ان کے لیے ایک سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے اور جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، خطے میں استحکام نہیں آ سکتا۔
ایران نے تجویز دی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیس روز کا ایک مذاکراتی دور رکھا جائے، جس میں بقیہ تفصیلات طے کی جائیں۔
اس دوران ایران نے امریکہ کی سنجیدگی کو جانچنے کے لیے باہمی اقدامات کی تجویز بھی دی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا واشنگٹن اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرتا ہے یا نہیں۔
تہران کا مؤقف ہے کہ معاشی دباؤ کی مہم دراصل ایران کے خلاف جاری فوجی اور سیاسی جنگ کا ہی ایک حصہ ہے، جسے ختم کیے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











