جمعرات، 4-جون،2026
جمعرات 1447/12/18هـ (04-06-2026م)

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے تباہ ہونے والے میزائل مراکز دوبارہ فعال کردیئے

03 جون, 2026 12:02

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود اپنے تباہ شدہ میزائل مراکز اور دفاعی صنعت کو دوبارہ فعال کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بمباری کا نشانہ بننے والے اپنے میزائل مراکز کو دوبارہ کھول لیا ہے اور وہاں کام شروع کر دیا ہے۔

سی این این کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے کے حل کے لیے تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔

ایران کا جغرافیہ اس کے میزائل مراکز کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کے کچھ اہم مراکز پہاڑوں کے اندر 500 میٹر کی گہرائی میں سخت اور ٹھوس چٹانوں کے نیچے بنائے گئے ہیں، جہاں امریکہ کے سب سے بڑے بنکر بسٹر بم جی بی یو-57 بھی اثر نہیں کرتے۔

اسی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ان زیر زمین مراکز تک پہنچنے والے راستوں اور سرنگوں کے دہانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں شدید ترین معاشی کساد بازاری کا خدشہ، ایران جنگ کے اثرات پر موڈیز کی ٹرمپ کو وراننگ

کئی ہفتوں تک دونوں ممالک نے ان راستوں کو تباہ کر کے ایران کے زیر زمین نیٹ ورک کو بند کرنے کی کوشش کی۔ لیکن نئی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے بلڈوزروں اور ٹرکوں کی مدد سے اس مہنگے امریکی آپریشن کو ناکام بنا دیا ہے۔

ایران نے 18 فوجی تنصیبات میں نشانہ بننے والے 69 سرنگوں کے دہانوں میں سے 50 کو دوبارہ کھول لیا ہے اور بمباری سے تباہ ہونے والی سڑکوں کے گڑھے بھر کر انہیں دوبارہ پکا کر دیا ہے۔

سی آئی اے کی مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایران کی فوجی تعمیرِ نو کا کام تیزی سے جاری ہے، ڈرون پروڈکشن دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور ایران نے اپنی 70 فیصد فوجی صلاحیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

ایران کے 75 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کر رہے ہیں اور جنگ سے پہلے کا 70 فیصد میزائل ذخیرہ استعمال کے لیے تیار ہے۔

امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران 3 سے 4 ماہ تک امریکی ناکہ بندی کا مقابلہ کر سکتا ہے اور وہ طویل اقتصادی دباؤ کو سالوں تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری طرف خلیج میں موجود 13 امریکی اڈوں میں سے کئی اڈے ایرانی حملوں کی وجہ سے ناقابل رہائش ہو چکے ہیں اور 15 مقامات پر 217 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

امریکہ کا اپنا میزائلوں کا ذخیرہ بھی ایرانی ڈرونز کو روکتے روکتے ختم ہو رہا ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مڈٹرم الیکشن کی وجہ سے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔