ہفتہ، 13-جون،2026
ہفتہ 1447/12/27هـ (13-06-2026م)

امریکا ایران کے خلاف ایک اور بڑی فضائی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، دفاعی ماہرین

13 جون, 2026 11:40

سفارتی اور فوجی ماہرین کے مطابق امریکا اس وقت ایران کے خلاف کسی نئی ہمہ جہت فضائی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے ہتھیاروں کے اسٹریٹجک ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اس نے امن معاہدے کے مذاکرات میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے، جس کی قیمت ایرانیوں کو چکانی پڑے گی۔

تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کو جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

حالیہ جنگ نے امریکی دفاعی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ہتھیاروں کے وہ ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں، جنہیں دوبارہ تیار کرنے میں برسوں کا وقت درکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : داؤ پر لگی معیشت اور مڈٹرم انتخابات، ایران سے معاہدہ امریکا کی ضرورت بن گیا

ایک ہی آپریشن میں امریکا کے 850 سے زیادہ ٹوما ہاک کروز میزائل، 1000 سے زیادہ جے اے ایس ایس ایم میزائل اور 200 سے زیادہ تھاڈ میزائل شکن سسٹم استعمال ہو چکے ہیں۔

مالیاتی طور پر پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 لاکھ ڈالر اور تھاڈ میزائل کی قیمت ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک ہے جبکہ ٹوما ہاک میزائل 20 لاکھ ڈالر کا ایک پڑتا ہے۔

اگر امریکا دوبارہ ایسا کوئی حملہ کرتا ہے تو اس میں اربوں ڈالر کے مزید ہتھیار ضائع ہوں گے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ایران پر محدود حملوں کی توثیق تو کی ہے لیکن ایسے محدود حملے حریف کا رویہ بدلنے میں ناکام رہتے ہیں۔

سب سے بڑا تزویراتی خطرہ یہ ہے کہ اگر امریکا نے اپنے میزائلوں کے ذخائر ایران پر ضائع کر دیئے تو وہ ایشیا پیسیفک میں چین کو روکنے اور یورپ میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ دینے کے قابل نہیں رہے گا اور کسی بڑے بحران کی صورت میں بحر الکاہل میں اپنے حریفوں کو جواب نہیں دے سکے گا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔