جمعہ، 19-جون،2026
جمعہ 1448/01/04هـ (19-06-2026م)

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، ایران کے خلاف امریکی فوجی اور معاشی مہم کی ناکامی کا دستاویزی ثبوت

19 جون, 2026 10:02

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا گہرا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دستاویز دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی سپر پاور امریکہ کی پسپائی کی ایک واضح تصویر ہے۔

الیکٹرانک طریقے سے ایران اور فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر دستخط ہونے والی اس یادداشت کی 14 شقیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی، اس کے جوہری پروگرام کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنے اور مزاحمتی فرنٹ کو ختم کرنے کے اپنے تمام مقاصد میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

امریکہ نے ایران کے خلاف شدید فوجی مہم، برسوں پر محیط معاشی دباؤ، بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی اور ایرانی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے، لیکن ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

اس دستاویز کے تحت اب واشنگٹن ایران پر سے بحری ناکہ بندی اٹھانے، تمام پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور ایران کو دنیا کی سب سے حساس سمندری گزرگاہ پر باضابطہ انتظام کا حق دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

تاہم، اس صورتحال میں دو اہم باتیں قابلِ غور ہیں۔ پہلی یہ کہ دونوں فریق اس یادداشت پر مکمل عمل کریں گے، کیونکہ کاغذ پر کیے گئے وعدے صرف عمل درآمد سے ہی حقیقت بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مستقبل کے مذاکرات کا مطلب دشمن کے سامنے جھکنا نہیں، ایرانی سپریم لیڈر

دوسری بات یہ کہ معاہدے پر دستخط اور حتمی ڈیل کے درمیان 60 دن کا وقت انتہائی خطرناک مرحلہ ہے۔ ماضی میں 2015 کا جوہری معاہدہ امن کا مستقل ذریعہ نہیں تھا بلکہ اس نے امریکہ کو مارکیٹ مستحکم کرنے کا موقع دیا تھا اور بعد میں 2018 میں امریکہ اس سے باہر نکل گیا تھا۔

اب بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ جب ایرانی تیل مارکیٹ میں آئے گا اور معاشی دباؤ کم ہوگا، تو امریکہ اور اسرائیل کو دوبارہ ہتھیار جمع کرنے کا موقع مل جائے گا اور یہیں سے سب سے خطرناک وقت شروع ہوگا۔

یہ پورا بحران 3 مراحل سے گزرا ہے۔ پہلا مرحلہ 2018 سے 2025 تک شدید معاشی دباؤ کا تھا، جہاں ایران کا جوہری پروگرام رکنے کے بجائے مزید آگے بڑھا۔

دوسرا مرحلہ 13 جون 2025 کو شروع ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فوجی کارروائی کی اور 28 فروری 2026 کو شدید بمباری کے ذریعے آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کو شہید کر دیا گیا۔

ایران نے اس کا جواب پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا کر دیا، جس سے عالمی توانائی کا بحران پیدا ہوا اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔

امریکہ کی بحری ناکہ بندی بھی ایران کو نہ جھکا سکی اور بالاآخر امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پڑے۔

اب تیسرا مرحلہ سفارتی زبان میں لپٹی ہوئی امریکی پسپائی کا ہے۔ اس یادداشت کی اہم شقوں کے مطابق، شق ایک تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے۔

شق 2 ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا عزم ظاہر کرتی ہے، جو امریکہ کی 70 سالہ مداخلت پسندانہ پالیسی کا خاتمہ ہے۔

شق 4 کے تحت امریکہ 30 دنوں میں اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور اپنی فوجیں ایران کے قریب سے ہٹا لے گا۔ شق 5 کے تحت آبنائے ہرمز پر ایرانی اثر و رسوخ کو تسلیم کیا گیا ہے اور ایران عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر اس گزرگاہ کا انتظام سنبھالے گا۔

شق 6 کے تحت امریکہ ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کرے گا، جو امریکی معاشی جنگ کی ناکامی کا اعتراف ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ناقابلِ بھروسہ دشمن کو اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں دیں گے، ایرانی اسپیکر

شق 7 اور 10 تمام امریکی اور عالمی پابندیوں کو ختم کرتی ہیں اور شق 11 منجمد اثاثوں کو مکمل طور پر ایران کے حوالے کرتی ہے۔

شق 8 کے تحت ایران کا یورینیم ذخیرہ ایرانی سرزمین پر ہی عالمی نگرانی میں ڈاؤن بلینڈ کیا جائے گا، یعنی اس کی افزودگی کی صلاحیت ختم نہیں کی گئی۔

شق 13 کے مطابق ایران نے تمام معاشی اور فوجی ریلیف پہلے حاصل کیے ہیں اور مشکل جوہری مسائل کو بعد کے لیے رکھا ہے۔

آخر میں شق 14 کے تحت اس حتمی معاہدے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے لازمی قرار دیا جائے گا، جہاں روس اور چین کو ویٹو پاور حاصل ہے۔

مجموعی طور پر یہ یادداشت یہ تسلیم کرتی ہے کہ ایران خطے کی ایک جائز طاقت بن چکا ہے اور اس کے مزاحمتی فرنٹ کے اتحاد کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔