پیر، 17-اگست،2026
پیر 1448/03/04هـ (17-08-2026م)

ایران جنگ کی وجہ سے امریکی بحریہ دباؤ کا شکار، نیا طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ روانہ، بحر الکاہل خالی

17 اگست, 2026 09:35

ایران کے خلاف طویل اور کھلی جنگ کے باعث امریکی بحریہ کے وسائل پر شدید دباؤ آ چکا ہے، جس کے بعد طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو بحر الکاہل سے مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا گیا۔

ایران کے خلاف جنگ نے امریکی بحریہ کے عسکری وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ امریکی ملٹری حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق طیارہ بردار جہاز ’’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘‘ بحر الکاہل سے روانہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جا کر ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘ کی جگہ سنبھالے گا۔

اس منتقلی کے بعد مغربی بحر الکاہل میں امریکہ کا ایک بھی طیارہ بردار جہاز موجود نہیں رہے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے ابراہم لنکن کی تعیناتی کی مدت میں مئی کے بعد سے مسلسل توسیع کی جا رہی ہے، جس کے باعث جہاز پر موجود عملے میں نفسیاتی صحت کی ابتر صورتحال اور سپلائی کی شدید قلت جیسے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بحریہ آنے والے مہینوں میں کوئی دوسرا جہاز تعینات نہ کر سکی تو بحر الکاہل میں یہ خلا مزید بڑھ سکتا ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ساؤتھ ایسٹ ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر گریگ پولنگ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ لامحدود جنگ امریکی ملاحوں کو مسلسل تھکا رہی ہے۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایشیا پیسیفک خطے سے مزید پیچھے ہٹ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز پر قبضے کی سوچ ٹرمپ کی سنگین غلطی ہے، پوری طاقت سے دفاع کریں گے، سربراہ ایرانی فوج

پولنگ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ پیسیفک خطہ دوسرے نمبر پر سب سے اہم ہے، لیکن حقیقت میں امریکہ اس کا الٹ کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے اپنے پرانے ہدف کے برعکس وہاں مزید پھنس رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیسیفک میں امریکی اتحادی ریپبلکن انتظامیہ کی اس غیر متوقع پالیسی سے شدید پریشان ہیں، جبکہ بیجنگ  امریکہ کی اس توجہ ہٹنے اور اس کے اتحادیوں کی مایوسی سے بے حد خوش ہے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن مئی میں جاپان کی یوکوسوکا بحری تنصیب سے روانہ ہوا تھا اور اب مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بی بی سی کے تجزیے کے مطابق جمعرات کو ملائیشیا کے قریب موجود یہ جہاز تقریباً 9 دنوں میں خطے میں پہنچ سکتا ہے۔ جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ پہنچ کر یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کے ساتھ خطے میں تیسرا امریکی طیارہ بردار جہاز بن جائے گا۔

بی بی سی ویریفائی کے ڈیٹا کے مطابق لنکن 11 دسمبر سے سمندر میں ہے جس نے مئی میں واپس لوٹنا تھا۔ جہاز پر صفائی کی ابتر صورتحال، پورٹ وزٹس کی کمی، پائپ لائنز کا ٹوٹنا، انتہائی تھکاوٹ اور تازہ خوراک کی قلت جیسے مسائل ہیں۔

ایک ملاح کے رشتہ دار نے بتایا کہ ان کا خاندانی فرد 65 پاؤنڈ (29 کلو) وزن کھو چکا ہے اور طیاروں کے مسلسل شور اور تھرتھراہٹ سے شدید تھکن کا شکار ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔