غیر قانونی جنگ امریکہ نے شروع کی اور بل دنیا کو بھیج رہا ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ

ایرانی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کا الزام تہران پر لگانے کے امریکی دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے غیر قانونی جنگ شروع کی اور اب دنیا پر اس کا بل ڈال رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کا الزام تہران پر عائد کرنے کے امریکی مؤقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ اہم اور اسٹریٹجک بحری راستہ 28 فروری تک کھلا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے خطے پر ایک غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی، جس کے باعث عام تجارتی جہاز رانی کا نظام درہم برہم ہوا، تیل کے ٹینکرز رک گئے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے ساتھ شاید ایٹمی معاہدہ نہ ہو سکے، امریکی وزیر توانائی
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکہ اب اپنی ہی پیدا کردہ تباہی کا بل پورے عالم کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پر ایران کا نام چپکا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اس منطق میں جو جنگ اس نے خود شروع کی، اسے دنیا کے لیے ایران کے رویے کی قیمت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ جنگ شروع کرنے والا ملک خود امریکہ ہے، لیکن وہ توقع کرتا ہے کہ اس کا بل پورا عالم ادا کرے اور ایران کو اس افراتفری کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اسماعیل بقائی نے امریکی دعوے کو سراسر مضحکہ خیز اور بڑا جھوٹ قرار دیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ غیر اشتعال انگیز امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا آغاز 28 فروری کو ایرانی سرزمین پر دہشت گردانہ ہوائی حملوں سے ہوا۔ ایران نے اپنے دفاع میں جواب دیا اور بعد میں آبنائے ہرمز پر اپنا جائز کنٹرول حاصل کیا، جس راستے سے عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اس بحری راستے کو محفوظ رکھنے کی ہر وجہ موجود ہے کیونکہ اس کی اپنی درامدات اور برامدات اسی پر منحصر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت ایران کو ساحلی ریاست کے طور پر اس راستے کے نظام کو سنبھالنے کا مرکزی کردار دیا گیا تھا، تاہم امریکہ نے مسلسل اس کی ورزی کی اور اب ذمے داری سے بھاگ رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












