بدھ، 9-ستمبر،2026
بدھ 1448/03/27هـ (09-09-2026م)

ایران امریکا جنگ؛ یو اے ای نے متبادل تجارتی راستے بنانے شروع کردیئے

07 ستمبر, 2026 18:27

متحدہ عرب امارات نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے اثرات سے اپنی تجارت اور توانائی کی برآمدات کو محفوظ رکھنے کے لیے متبادل راستے تیار کرنا شروع کردیئے ہیں۔

یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر توانائی کی برآمدات اور تجارت کے لیے نئے راستوں پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی معاشی سرگرمیوں کو جنگ یا علاقائی کشیدگی کے باعث یرغمال نہیں بننے دے گا۔

انور قرقاش کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بندرگاہوں کی گنجائش بڑھانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان علاقوں کو مستقبل میں تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ پائپ لائنز، ریلوے اور دیگر متبادل تجارتی راستے بھی تیار کیے جارہے ہیں۔

اماراتی حکام کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران امریکا جنگ کے باعث پورے خطے میں تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خلیجی ممالک کے لیے سمندری راستے انتہائی اہم ہیں۔ کسی بھی بڑے تنازع کی صورت میں ان راستوں میں رکاوٹ سے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

انور قرقاش نے ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اہم بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم موجودہ کشیدگی اور حالیہ واقعات کے بعد خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اعتماد کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔

انہوں نے خلیجی ممالک کی جانب سے ایرانی حملوں کے خلاف اجتماعی ردعمل کو بھی ناکافی قرار دیا۔ خطے کے ممالک کئی برسوں سے ایران سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے آگاہ تھے۔ اس کے باوجود خلیجی ممالک ایران کے حوالے سے مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ایران کو اپنے پڑوسی ممالک کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ خطے میں موجود مختلف ممالک کے درمیان مشترکہ سمجھ بوجھ ضرور تھی، لیکن اسے ایک متحد اور مؤثر حکمت عملی میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے اگست میں ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین بھی معطل کردیا تھا۔ اس اقدام کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے بندرگاہوں، پائپ لائنز، ریلوے اور متبادل تجارتی راستوں پر توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب خلیجی ممالک علاقائی کشیدگی کے ممکنہ طویل مدتی اثرات سے نمٹنے کی تیاری کررہے ہیں۔ توانائی اور تجارت کے راستوں کو متنوع بنانا مستقبل میں کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔