ہفتہ، 12-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/01هـ (12-09-2026م)

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ، ٹیکس اور لیوی نے عوام کی مشکلات بڑھا دیں

12 ستمبر, 2026 11:03

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، تاہم پاکستان میں پیٹرول کی قیمت پر عائد کسٹم ڈیوٹی، مختلف ٹیکسز اور تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی نے حکومتی قیمتوں کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے طریقہ کار کو عوام کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا فوری فائدہ پہنچانے کا ذریعہ قرار دیا تھا، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے 95 پیسے کا اضافہ ہوا، جبکہ ڈیزل 25 روپے 27 پیسے مہنگا ہوا اور اس کی فی لیٹر قیمت 400 روپے سے تجاوز کرگئی۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول تقریباً 242 روپے میں کراچی پورٹ پہنچتا ہے۔ اس کے بعد فی لیٹر ایک روپے 42 پیسے ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ اور 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل کی جاتی ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں اندرون ملک مال برداری کے لیے فی لیٹر 7 روپے 61 پیسے شامل ہوتے ہیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز کا مارجن 9 روپے 98 پیسے مقرر ہے۔

ان تمام اخراجات اور مارجنز کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت تقریباً 290 روپے کی سطح پر پہنچ جاتی ہے۔

اس کے بعد پیٹرول پر عائد لیوی قیمت میں مزید نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول پر 80 روپے لیوی وصول کی جاتی ہے، جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں مزید 5 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں۔

یوں کراچی پورٹ پر تقریباً 242 روپے میں پہنچنے والا ایک لیٹر پیٹرول مختلف ڈیوٹیز، مارجنز اور لیویز شامل ہونے کے بعد 375 روپے کی سطح عبور کرجاتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔