ڈیجیٹل دنیا کی شہ رگ ایران کے نشانے پر

ایران نے آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی عالمی انٹرنیٹ کیبلز کا تفصیلی نقشہ جاری کر کے دنیا کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل معیشت کو کسی بھی وقت مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے پرسکون پانیوں کے نیچے ایک ایسا نازک نقطہ موجود ہے، جو لاکھوں انسانوں کے لیے انٹرنیٹ کی فراہمی کو پل بھر میں روک سکتا ہے۔
ایران نے حال ہی میں ایک تفصیلی عوامی نقشہ جاری کیا ہے، جس میں ان اہم سمندری کیبلز کی نشاندہی کی گئی ہے، جو عالمی سطح پر ڈیٹا کی منتقلی کا ذریعہ ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ کیبلز انتہائی غیر محفوظ ہیں اور انہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین اسے ڈیجیٹل دور کی ایک نئی قسم کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو ایران بغیر کسی میزائل کے ان تاروں کو کاٹ کر دنیا کا رابطہ منقطع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے ایرانی تیل لے جانے والے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا
اعداد و شمار کے مطابق کم از کم سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے گزرتی ہیں، جو خطے کی ستانوے فیصد انٹرنیٹ ٹریفک بشمول ای کامرس، بینکنگ اور کلاؤڈ سروسز کو سنبھالتی ہیں۔
ایران کی اپنی رپورٹ میں اس مقام کو خلیجی ممالک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ماضی میں بحیرہ احمر میں اس طرح کے واقعات ہو چکے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خطرہ محض خیالی نہیں ہے۔
اگر یہ کیبلز متاثر ہوتی ہیں تو عالمی تجارت رک جائے گی، مالیاتی لین دین منجمد ہو جائے گا اور مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں انٹرنیٹ سروسز غائب ہو سکتی ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












