اتوار، 3-مئی،2026
اتوار 1447/11/16هـ (03-05-2026م)

ڈیپ سیک نے اے آئی ماڈلز کی قیمتوں میں 97 فیصد کمی کرکے امریکی تسلط کو چیلنج کردیا

03 مئی, 2026 12:54

چین کی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے جدید ترین ماڈل کی قیمتوں میں 97 فیصد تک کی غیر معمولی کمی کر کے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کے تسلط کو ختم کرنا اور اے آئی تک رسائی کو عام بنانا ہے۔

چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں امریکہ کے عالمی تسلط کو چیلنج کرنے کے لیے پرائس بم گرا دیا ہے۔ چینی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنے جدید ترین وی فور ماڈل کی قیمتوں میں اوپن اے آئی کے جی پی ٹی کے مقابلے میں ستانوے فیصد تک کی ڈرامائی کمی کر دی ہے۔

اس اقدام کو عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل طاقت اور اے آئی کو عام آدمی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل رسائی بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چینی اور امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، بیجنگ کا تائیوان معاملے پر سخت مؤقف

اعداد و شمار کے مطابق ڈیپ سیک کے استعمال کی لاگت امریکی ماڈلز کے مقابلے میں تقریباً بتیس گنا کم ہے، جس نے کاروباری اداروں اور ڈویلپرز کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

یہ پیش رفت صرف قیمتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ چین کی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈیپ سیک کا وی فور ماڈل ہوواوے کی اسینڈ چپس کے لیے موزوں بنایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ چین اب غیر ملکی ہارڈ ویئر پر انحصار کم کر رہا ہے۔

مارکیٹ کا ردعمل بھی انتہائی غیر معمولی رہا ہے، جہاں ایک ہی دن میں ڈیپ سیک کے استعمال میں چار گنا اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین بشمول شنگھائی یونیورسٹی کے پروفیسر ہو یان پنگ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اے آئی تک رسائی کو وسیع کرنا اور صنعت کی توقعات کو نئے سرے سے مرتب کرنا ہے۔

چین اب مصنوعی ذہانت کو مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور تعلیم جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر ضم کر رہا ہے، جس سے اس نے پیٹنٹس اور صنعتی روبوٹس کی دوڑ میں امریکہ سے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔