اسرائیل کس طرح امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کو ناکام بنا سکتا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے بعد کا 60 روزہ دورانیہ شدید خطرات سے گھرا ہوا ہے، جہاں اسرائیل اس تاریخی امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت نے اپنا پہلا ہفتہ انتہائی مشکل سے مکمل کیا ہے۔ اس صورتحال سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اب واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات محض خفیہ رپورٹس تک محدود نہیں رہے بلکہ اب دونوں حکومتیں عوامی سطح پر ایک دوسرے کے سامنے آ گئی ہیں۔
معاہدے کے تحت مقرر کیا گیا 60 دن کا مذاکراتی دورانیہ شدید خطرات کا وقت ہے کیونکہ اسرائیل اس حتمی معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے۔
اس معاہدے پر دستخط ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر 10 کلومیٹر تک اپنے دستوں کی تعیناتی کا نقشہ جاری کر کے نہ صرف مزاحمتی فرنٹ بلکہ واشنگٹن کو بھی براہ راست چیلنج کیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا ارادہ ہے کہ وہ اس پوزیشن کو نومبر میں امریکی وسطی مدت کے انتخابات تک برقرار رکھیں تاکہ ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کا موقع مل سکے۔
لبنان کے محاذ پر کفر تبنیت کے مقام پر حزب اللہ کے ہاتھوں اپنے اہم کمانڈر اور فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیلی فوج اس پہاڑی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بضد ہے۔
سفارتی محاذ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس اب اسرائیل کی اس ہٹ دھرمی سے تنگ آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیویارک ٹائمز کی خبر کی تردید، ایران کی فوج، بحریہ اور فضائیہ مکمل طور پر ختم کردی، ٹرمپ
ٹرمپ کے سفیروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو اسرائیلی میڈیا میں غدار کہا گیا۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ نیتن یاہو کی عقل بالکل ختم ہو چکی ہے، جس نے بیروت پر حملہ کر کے اس ڈیل کو تقریباً تباہ کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے جی سیون اجلاس میں واضح کیا کہ امریکا بڑا پارٹنر ہے اور اسرائیل بہت چھوٹا پارٹنر ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزرا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ 90 لاکھ کی آبادی کا ملک ہر سیکیورٹی مسئلے کا حل صرف قتل و غارت گری سے نہیں نکال سکتا۔
اس کے جواب میں اسرائیلی وزرا بشمول بن غویر اور اسموتھرچ نے اس معاہدے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس معاہدے کو ایک اسٹریٹجک تباہی قرار دے رہی ہے۔
اس تمام تر صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ ایران کو ہو رہا ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے دوران اسرائیلی حملوں میں لبنانی شہریوں کی شہادت پر کوئی فوجی ردعمل نہیں دیا بلکہ امریکی بدنیتی اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا۔
اس اقدام سے ایران نے بغیر کسی جانی نقصان کے امریکا پر شدید معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اب اگر واشنگٹن نے اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں کو نہ روکا تو ایران کا معاشی دباؤ فوجی ردعمل میں بھی بدل سکتا ہے۔
فی الحال اسرائیل خود کو دنیا میں تنہا کر رہا ہے اور امریکا اپنے ہی ایک چھوٹے اتحادی کو قابو کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے، جس کا پورا فائدہ ایران کے اسٹریٹجک وزن کو بڑھا رہا ہے۔ اصل خطرہ اب نومبر کی تاریخ ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس صورتحال کو مستقل علاقائی کامیابی میں کیسے بدلتا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












