ٹرمپ کی مداخلت پر پابندی ختم ہونے سے فیفا ورلڈ کپ میں بڑا تنازعہ پیدا ہوا، امریکی فٹ بالر

امریکی فٹ بال ٹیم کے اسٹار فارورڈ فولارین بالوگون کا کہنا ہے کہ وہ بلکل جانتے تھے کہ ان کا ریڈ کارڈ معطل ہونے کے فیصلے پر فٹ بال کی دنیا میں بڑا تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔
بالوگون کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں مخالف کھلاڑی پر غلط طریقے سے پاؤں رکھنے پر ریڈ کارڈ دکھا کر ایک میچ کی پابندی لگائی گئی تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیفا کے سربراہ گیانی انفانٹینو سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کے بعد فیفا نے اس پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا تھا۔
بالوگون نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب ٹیم کی بس میں انہیں اس فیصلے کا علم ہوا تو سب خوشی سے چیخ رہے تھے، لیکن وہ دل ہی دل میں جانتے تھے کہ سیاسی مداخلت کے باعث اس سے باہر بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : عراق میں امریکی فوج کا 23 سالہ قیام ختم، 30 ستمبر تک مکمل فوجی انخلا کا حتمی اعلان کردیا گیا
فیفا کے اس غیر معمولی فیصلے کی وجہ سے بالوگون بیلجیئم کے خلاف اہم میچ میں کھیلنے کے قابل ہو گئے تھے، جس پر یورپ کے فٹ بال فیڈریشن اور بیلجیئم کی فٹ بال ایسوسی ایشن سمیت کئی سابق کھلاڑیوں نے شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی براہ راست سیاسی مداخلت پر ریڈ کارڈ کی پابندی ختم کرنا کھیل کی غیر جانبداری کو نقصان پہنچاتا ہے۔
بالوگون نے تسلیم کیا کہ ان کے لیے یہ چند دن کافی پریشان کن تھے کیونکہ باہر بہت زیادہ شور مچ رہا تھا۔ بیلجیئم کے خلاف میچ میں امریکی ٹیم کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بالوگون اس میچ میں کوئی خاص اثر نہ چھوڑ سکے، حالانکہ انہوں نے اس پورے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 3 خوبصورت گول سکور کیے۔
Catch all the کھیل News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












