چین کا مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کیلئے 295 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان

چین نے ملک گیر ڈیٹا سینٹرز کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک بنانے کے لیے اگلے 5 سالوں میں 295 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔
چین نے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اگلے 5 سالوں کے دوران ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس پر تقریباً 295 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
حکومتی ادارے اس پورے ملک کے کمپیوٹنگ ہبز کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایک جامع بلیو پرنٹ تیار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین نے امریکہ کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر لاکھوں جدید ترین اے آئی کمپیوٹر چپس خرید لیں
ان مراکز کو زیادہ تر سرکاری کمپنیاں چلائیں گی اور اس منصوبے میں کم از کم 80 فیصد ٹیکنالوجی مقامی سپلائرز سے لی جائے گی تاکہ غیر ملکی حریفوں کو باہر نکال کر مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ٹیک سیکٹر بنایا جا سکے۔
اس منصوبے کے لیے رقم سرکاری فنڈز اور بینک قرضوں کے ذریعے فراہم کی جائے گی اور اگر اس میں قومی پاور گرڈ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ کل سرمایہ کاری 700 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اس نیٹ ورک کا مقصد تمام بکھرے ہوئے علاقائی وسائل کو یکجا کر کے کمپنیوں کو ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ تک رسائی دینا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت 2028 تک تمام بکھری ہوئی تنصیبات کو ایک مربوط نظام سے جوڑ دیا جائے گا، جس کا فائدہ مقامی ہارڈ ویئر مینوفیکچررز کو ہوگا۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












