جمعرات، 15-جنوری،2026
جمعرات 1447/07/26هـ (15-01-2026م)

دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں

05 جنوری, 2026 08:10

 دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آزادی چوک پر رات گئے مشعل بردار جلوس نکالا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کشمیری عوام کے حق میں نعرے بلند کیے۔

یومِ حقِ خودارادیت ہر سال 5 جنوری کو منایا جاتا ہے، کیونکہ اسی دن 1949 میں اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دینے کی قرارداد منظور کی تھی۔

قرارداد کی منظوری کے باوجود بھارت نے آج تک مقبوضہ کشمیر میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو طویل عرصے سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اسی ناانصافی کے خلاف کشمیری عوام ہر سال اس دن کو عزمِ نو اور جدوجہد کے اظہار کے طور پر مناتے ہیں۔

یومِ حقِ خودارادیت منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا اور انہیں یہ یاد دہانی کروانا ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔

صدر و وزیراعظم کا یوم حق خودارادیت کشمیر پر پیغام

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم حق خودارادیت کشمیر کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لیے جدوجہد سات دہائیوں سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی مؤثر اور قابل عمل ہیں اور کشمیریوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

صدر زرداری نے مقبوضہ وادی میں جاری سیاسی پابندیوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، عام شہریوں کی بے دخلی اور تشدد کے شکار ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

صدر زرداری نے بھارت پر زور دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر کنٹرول خطے کے استحکام کے لیے سنگین چیلنج ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری سے ہوگا، لیکن بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آٹھ دہائیوں سے بھارتی افواج کے مظالم برداشت کر رہے ہیں اور 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کی حقیقی قیادت کو خاموش کروانے اور میڈیا کو دبانے کی کوششیں کیں، اور آج بھی ہزاروں کشمیری سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔