امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملے کا پلان؛ ایرانی سپریم لیڈر کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

ایرانی سپریم لیڈر کا امریکا کو صیہونی حکومت کی حمایت ختم کرنے کا مشورہ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ملک چھوڑنے سے متعلق مغربی میڈیا میں گردش کرنے والی خبریں من گھڑت اور سیاسی مقاصد پر مبنی پروپیگنڈا نکلیں۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نہ صرف مکمل طور پر ایران میں موجود ہیں بلکہ ریاستی معاملات کی براہِ راست نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق مغربی میڈیا کی جانب سے ایسے دعوے ایک منظم نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کے اندر خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ احتجاجی سرگرمیاں محدود اور غیر مؤثر ثابت ہو چکی ہیں اور انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ سکیورٹی ادارے مکمل طور پر ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی قسم کی اندرونی بغاوت یا وفاداری میں کمی کی اطلاعات بے بنیاد قرار دی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی کھلی حمایت دراصل امریکا کی مایوسی اور خوف کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں بار بار ناکام ہو چکی ہیں۔
ایرانی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی خودمختار خارجہ پالیسی، دفاعی صلاحیت اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خائف ہیں۔ اسی خوف کے باعث معاشی پابندیوں، میڈیا پروپیگنڈے اور فوجی دھمکیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
ایران کی قیادت کا مؤقف ہے کہ معاشی دباؤ کے باوجود ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور عوام کی اکثریت بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔
ایرانی عوام نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والے نہیں۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا یا شام سے ایران کا موازنہ کرنا حقائق سے لاعلمی یا جان بوجھ کر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کے مترادف ہے، کیونکہ ایران کا ریاستی، دفاعی اور عوامی ڈھانچہ کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے۔
ایسے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ملک چھوڑنے سے متعلق خبریں نہ صرف جھوٹ پر مبنی ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک ناکام کوشش بھی سمجھی جا رہی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












