جمعرات، 15-جنوری،2026
بدھ 1447/07/25هـ (14-01-2026م)

میں اغوا ہوا ہوں، بے گناہ ہوں اور اب بھی صدر ہوں: مادورو کا امریکی عدالت میں مؤقف

06 جنوری, 2026 08:30

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکا کی ایک وفاقی عدالت میں اپنے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں زبردستی گرفتار کیا گیا اور وہ اب بھی اپنے ملک کے آئینی صدر ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں سخت سیکیورٹی میں بکتر بند گاڑی کے ذریعے عدالت پہنچایا گیا۔

عدالتی پیشی کے دوران مادورو قیدیوں کا لباس پہنے ہوئے اور ہتھکڑیوں میں جکڑے نظر آئے، جبکہ کارروائی کو ہسپانوی زبان میں سمجھنے کے لیے انہوں نے ہیڈفون کا استعمال کیا۔

وفاقی جج کی جانب سے شناخت پوچھے جانے پر مادورو نے کہا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں۔ بعد ازاں عدالت میں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات پڑھ کر سنائے گئے، تاہم مادورو نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک بے گناہ اور مہذب انسان ہیں، ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر اغوا کر کے امریکا لایا گیا ہے۔

مادورو کی اہلیہ نے بھی عدالت میں خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ان الزامات سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے طویل تاریخ مقرر کرتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو 17 مارچ کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا منتقل کرنے کے بعد نیویارک کی جیل میں رکھا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق انہیں ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔