اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد اور تذلیل، عالمی اداروں کی لرزہ خیز رپورٹ جاری

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل کے حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم جنسی تشدد کو ریاستی پالیسی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
انسانی حقوق کی معروف تنظیم یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر نے اپنی حالیہ رپورٹ دیواروں کے پیچھے ایک اور نسل کشی میں اسرائیلی جیلوں کے اندر ہونے والے مظالم کے حوالے سے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کوئی انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ریاستی پالیسی ہے، جس کا مقصد قیدیوں کی تذلیل کرنا اور انہیں ذہنی و جسمانی طور پر توڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سلیکون ویلی کا اسرائیل سے خفیہ معاہدہ، ٹیکنالوجی کمپنیاں فلسطینیوں کیخلاف جنگ میں شریک
رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو ریپ، مختلف اشیاء کے ذریعے تشدد، جنسی اعضاء کو نشانہ بنانے اور تربیت یافتہ کتوں کے ذریعے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مظالم کی نگرانی اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار کرتے ہیں اور اکثر اوقات ان گھناؤنے افعال کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جاتی ہے، تاکہ قیدیوں کو مزید بلیک میل کیا جا سکے۔
اینا کیسپیرین جیسی معروف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اسرائیل کی اعلیٰ ترین سیاسی، فوجی اور عدالتی حکام کی توثیق اور سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے، لیکن عالمی طاقتوں کی خاموشی اسرائیل کو ان مظالم کو جاری رکھنے کا حوصلہ دے رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











