اسرائیلی معیشت اور دفاعی صنعت کے منافع میں غیر معمولی اضافہ

تل ابیب کی اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایران جنگ سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش بن چکی ہے۔
عالمی منڈیوں میں اضطراب کے باوجود تل ابیب اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ تیزی جنگ کی تباہ کاریوں کے باوجود نہیں بلکہ مبینہ طور پر اسی کی بدولت آئی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران پر حملوں کے پہلے ہی دن تل ابیب پینتیس انڈیکس میں چار اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا۔ سال 2025 کے دوران اس انڈیکس نے ترپن فیصد کی حیران کن ترقی دکھائی، جو امریکی مارکیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
غزہ میں جاری انسانی المیے اور پچاس ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سرمایہ کاروں کی دولت میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں : روحانیت کے نام پر بدترین استحصال، اسرائیلی ربی جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار
اس منافع خوری میں سب سے آگے اسلحہ ساز کمپنیاں، توانائی کے ادارے اور بینک ہیں۔ ‘ایلبیٹ سسٹمز’ نامی دفاعی کمپنی اسرائیل کا سب سے قیمتی ادارہ بن چکا ہے، جس کے پاس پچیس ارب ڈالر کے آرڈرز موجود ہیں۔
اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اب امریکی حکومت کے مقابلے میں زیادہ سستا قرض حاصل کر رہا ہے۔
جنگ کے آغاز پر اسرائیل کے پاس دو سو پانچ ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے، جس کی مدد سے کرنسی کو سہارا دیا گیا۔
جہاں ایک طرف خلیجی ممالک کی مارکیٹیں جنگ کے خوف سے گراوٹ کا شکار ہیں، وہیں اسرائیل کی جنگی معیشت، جو ہائی ٹیک اور دفاعی برآمدات پر منحصر ہے، اس قتل و غارت کو منافع میں بدلنے میں کامیاب رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











