ایرانی وزیر خارجہ کا اقوام متحدہ کو خط، امریکی قرارداد کو اشتعال انگیز قرار دے دیا

ایرانی وزیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں امریکہ اور بحرین کی قرارداد کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور تمام فیصلوں کا محور رہبر اعلیٰ کو قرار دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ اور بحرین کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ قرارداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس قرارداد کو یکطرفہ، سیاسی مقاصد پر مبنی اور انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کو جارح ممالک کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بحران کی اصل وجہ امریکہ کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال اور ایران پر کیے جانے والے حملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران بحری تصادم کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
خط میں عباس عراقچی نے زور دیا کہ اگر جنگ کا خاتمہ کر دیا جائے، بحری ناکہ بندی ختم ہو اور ایران پر عائد پابندیاں ہٹا دی جائیں تو آبنائے ہرمز میں صورتحال فوری طور پر معمول پر آ سکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید واضح کیا کہ ملک کے تمام بڑے فیصلے رہبر اعلیٰ کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں اور نظام کے تمام ستون ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق کوئی بھی قدم رہبر اعلیٰ کی منظوری کے بغیر نہیں اٹھایا جاتا اور وہ موجودہ حالات کو پوری حکمت اور طاقت کے ساتھ کنٹرول کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











