امریکا نے ایرانی ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کی؛ ایران

تہران: ایران نے اپنے جنوبی ساحلی علاقوں پر امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی مفاہمتی معاہدے (ایم او یو) کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی واضح خلاف ورزی اور جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 1 کی صریح پامالی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق اسی دوران اسرائیل نے بھی امریکہ کے ساتھ مل کر لبنان میں حملے کیے، جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں ان اہداف کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر امریکی جارحانہ کارروائیوں سے منسلک تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقین پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور اپنی سرزمین یا تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مبینہ خلاف ورزی پر خاموش نہ رہیں اور خطے و عالمی امن کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کریں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعہ کی شب جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں ایران کے مبینہ میزائل اور ڈرون ذخائر اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکی بیان کے مطابق ان کارروائیوں کے چند گھنٹوں بعد ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے خطے میں امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ، لبنان میں جنگ بندی، ایران پر امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کی بحالی بتایا گیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









