یوکرین میں نیٹو فوجیوں کی تعیناتی روس کے ساتھ براہ راست جنگ ہوگی، صدر پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یورپی نیٹو ممالک کی جانب سے یوکرین میں فوجیوں کی تعیناتی کا مطلب روس کے ساتھ براہ راست جنگ ہوگا۔
نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر یورپی نیٹو ممالک نے اپنے فوجی یوکرین کی سرزمین پر اتارے تو یہ اقدام روس کے ساتھ کھلی اور براہ راست جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کے موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی عالمی اشرافیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی، سیکیورٹی اور معیشت میں کی جانے والی نظامی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔
پیوٹن کے مطابق ان مغربی رہنماؤں نے خود کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان سے کوئی غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ان کی غلطیاں اب برف کے گلے کی طرح جمع ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا متبادل اور تیل کے ذخائر، کیا مارکیٹ ایران کے ساتھ طویل جنگ کا دباؤ برداشت کر پائے گی؟
سیکیورٹی کے شعبے میں بات کرتے ہوئے روسی صدر نے نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع اور یوکرین کو اس عسکری اتحاد میں شامل کرنے کی مغربی کوششوں کو اس موجودہ تنازع کی بنیادی جڑ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مغربی حکومتیں اپنے عوام کو فرضی روسی خطرے سے ڈرا رہی ہیں اور خود یورپ کو ایک خطرناک براہ راست تصادم کے قریب دھکیل رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس کسی بھی یورپی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ بعض یورپی ممالک کی طرف سے یوکرین میں فورسز بھیجنے کے منصوبے اس سرخ لکیر کو عبور کر لیں گے،اور ماسکو کبھی بھی نیٹو فوجیوں کو سیکیورٹی ضمانتوں کے نام پر یوکرین میں اڈے بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔
پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ یورپی عوام اب ان خطرناک پالیسیوں کے نتائج کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں، جس کا اظہار براعظم کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی تبدیلیوں سے ہو رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












