ایران کا پانچ عرب ممالک سے جنگی ہرجانے کا مطالبہ

ایران نے اقوام متحدہ میں باضابطہ طور پر پانچ علاقائی عرب ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جنگی حمایت پر ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مہم جوئی میں مبینہ شرکت پر ہرجانہ ادا کریں۔
انہوں نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ ایروانی نے واشنگٹن کو ان تمام غیر قانونی اقدامات اور عالمی امن و سلامتی کو پہنچنے والے نقصانات کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اسی تسلسل میں ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل اور غیر مشروط خود مختاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی اور بگڑتی صحت کا شکار ہیں، امریکی دعویٰ
انہوں نے اسے ایرانی عوام کے حقوق کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگی ہرجانے کے دعووں میں اس اسٹریٹجک پوزیشن کی قانونی اہمیت کلیدی ہے۔
محمد رضا عارف کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد ہی ملک کا اصل سرمایہ ہے اور ایک مضبوط ایران کی تعمیر کے لیے داخلی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی صلاحیتوں اور وسائل کے تحفظ کی پالیسی پر سختی سے کاربند رہے گا۔
علاوہ ازیں، ایران کے نئے رہنما سید مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی مغربی ایشیا کی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں قائم امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی پر نظر ثانی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی خطے میں عدم استحکام اور مداخلت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تنصیبات کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ایران پر ہونے والے حملوں سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک خلیج میں غیر ملکی افواج موجود ہیں، خطے میں حقیقی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












