امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہونے کا امکان

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ جمعرات کو دونوں فریقین مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایک بار پھر آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات اگرچہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں، تاہم دونوں اطراف سے سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام اور سفارت کاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے دوسرے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جو کہ جمعرات جتنا جلد ممکن ہو سکتا ہے۔
ان کوششوں کا بنیادی مقصد اگلے ہفتے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایک جامع معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ چھ ہفتوں سے جاری اس خونی جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اجلاس کے بعد سے امریکہ مسلسل ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات کیلئے آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کو اڑانے کی دھمکی ملی تھی، پروفیسر مرندی
ایک امریکی اہلکار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے رابطہ کیا ہے اور وہ معاملات کو طے کرنا چاہتے ہیں۔
اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل روابط موجود ہیں اور ایک معاہدے تک پہنچنے کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر ان اہم مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور اس سلسلے میں دو افغان حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں دوسرے دور کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔
تاہم یہ فیصلہ فریقین کی رضامندی پر منحصر ہوگا۔ اگرچہ اسلام آباد کا نام دوبارہ زیرِ غور ہے، لیکن امریکی حکام کے مطابق جنیوا بھی ایک ممکنہ مقام ہو سکتا ہے۔
مقام اور وقت کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، لیکن سفارتی حلقوں میں یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز خطے میں امن کی نئی راہ ہموار کرے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












