ایرانی ریال کی خریداری؛ سرمایہ کار اس بات کا لازمی خیال رکھیں

Buying Iranian rials: Investors should keep this important point in mind
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب کرنسی مارکیٹ میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں لوگ ڈالر کے بجائے ایرانی ریال خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ پہلے تک ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 2 سے ڈھائی ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب تھے، لیکن اب اسی رقم کی قیمت بڑھ کر 8 سے 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ قیاس آرائیاں ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں یا پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو ایرانی کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اسی امید پر سرمایہ کار بڑی تعداد میں ریال خرید رہے ہیں۔
ایکسچینج کمپنیز کے نمائندوں کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں طلب بڑھنے کی وجہ سے ریال کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بغیر مکمل معلومات کے صرف افواہوں پر سرمایہ کاری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ بعض اوقات جب کسی کرنسی کی قدر میں اچانک اضافہ ہوتا ہے تو متعلقہ ملک بڑی مالیت کے نوٹ تبدیل یا ختم کر دیتا ہے، جس سے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب تجارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں بھی ریال کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ برآمد کنندگان ایران سے ادائیگیاں ریال میں وصول کر رہے ہیں جبکہ درآمد کنندگان اسی کرنسی کے ذریعے لین دین کر رہے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کرنسی میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں اور جلد بازی میں فیصلے نہ کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال غیر یقینی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












