کروڑوں افراد کے فاقہ کشی کا شکار ہونے کا خدشہ، عالمی بینک نے خبردار کردیا

عالمی بینک نے متنبہ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی عالمی سطح پر خوراک کے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس سے 36 کروڑ سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
عالمی بینک کے چیف اکانومسٹ اندرمیت گل نے ایک انٹرویو کے دوران خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران و امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کروڑوں لوگوں کو بھوک اور فاقہ کشی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں تقریباً 300 ملین افراد پہلے ہی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور موجودہ حالات کی وجہ سے اس تعداد میں 20 فیصد تک فوری اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی اداروں کا توانائی کی ذخیرہ اندوزی روکنے کا مطالبہ
اندرمیت گل کے مطابق ان ممالک کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جو براہ راست جنگ کی زد میں ہیں یا جہاں حکومتیں کمزور ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس صورتحال کو جلد حل نہ کیا گیا تو چند ہی مہینوں میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی شروع ہو جائے گی۔ خوراک کی فراہمی کے عالمی سلسلے (سپلائی چین) میں خلل اور قیمتوں میں اضافے سے غریب ترین ممالک کے لیے بقا کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











