امریکی صدر کے دورہ بیجنگ سے قبل ایران اور چین کا تزویراتی گٹھ جوڑ

امریکی صدر کے وسط مئی میں شیڈول دورہ بیجنگ سے قبل ایران نے سفارتی پہل کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو چین بھیج دیا ہے۔ اس دورے کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بیجنگ کو اعتماد میں لینا اور آبنائے ہرمز کے بحران پر مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے تفصیلی ملاقات کی ہے، جسے عالمی مبصرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ چین سے قبل تہران کی ایک اہم تزویراتی پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔
اس ملاقات میں عباس عراقچی نے بیجنگ کو تہران کا ایک ’’وفادار دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا اور تہران اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے ایک ’’نئی مساوات‘‘ قائم کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بیجنگ کو واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کے نتائج پر بھی بریفنگ دی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اس موقع پر ایران کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ خطہ ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور بیجنگ کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے چین کے ’’چار نکاتی فارمولے‘‘ کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ فریقین کے درمیان براہ راست ملاقاتیں حتمی حل کے لیے ناگزیر ہیں۔
دورے کی تزویراتی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی، جب چین نے عباس عراقچی کی آمد سے قبل ہی اپنی آئل ریفائنریز کو حکم دیا کہ وہ ایرانی خام تیل کی خریداری پر عائد امریکی پابندیوں کو یکسر نظر انداز کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران تنازعہ اور ایندھن کی قیمتیں، مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین کا پلہ بھاری ہو گیا
چین نے 2021 میں منظور کردہ اس قانون کو بھی پہلی بار فعال کر دیا ہے، جو چینی مفادات کو غیر ملکی (امریکی) قوانین کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
چین کا مؤقف ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی دراصل چین کی توانائی کی سلامتی پر حملہ ہے، کیونکہ بیجنگ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے اور ایرانی تیل کی خریداری بند کرے، جسے امریکی حکام ’’دہشت گردی کی مالی معاونت‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم، بیجنگ نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے تہران کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کی ناکامی اور آبنائے ہرمز میں امریکی پسپائی نے ایران اور چین کے مذاکراتی پوزیشن کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
عباس عراقچی کے اس دورے نے واشنگٹن کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ چین اپنے ایرانی اتحادی کو کسی بھی قیمت پر تنہا نہیں چھوڑے گا اور ٹرمپ کو بیجنگ میں ایک سخت سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












