روحانیت کے نام پر بدترین استحصال، اسرائیلی ربی جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار

اسرائیل میں ایک معروف ربی کو اپنے پیروکاروں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں روحانیت کے نام پر غلام بنا کر رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسرائیل سے ایک انتہائی لرزہ خیز اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں ربی یوسف شوویلی کو اپنے پیروکاروں پر بدترین تشدد، جنسی زیادتی اور انہیں غلام بنا کر رکھنے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔
متاثرین کے مطابق ربی یوسف شوویلی نے اپنے پیروکاروں پر مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا تھا، انہیں ان کے خاندانوں سے الگ کر دیا گیا تھا اور ان کی روزمرہ زندگی کے معمولات ربی خود طے کرتا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کئی متاثرین نے اپنا خاندانی نام تک بدل کر ‘شوویلی’ رکھ لیا تھا، جو ربی کی اپنے مریدوں پر ذہنی گرفت کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنانی شہری انسان نہیں، اسرائیلی فوجی کا غیر انسانی رویے کا متنازع انٹرویو وائرل
اسرائیلی مرکز برائے متاثرین فرقہ واریت نے کم از کم سولہ گواہیاں جمع کی ہیں، جن میں 2011 سے اب تک ہونے والے جنسی حملوں اور جبر کے واقعات شامل ہیں۔
متاثرہ خواتین نے اپنے بیانات میں ایسے ہولناک واقعات بیان کیے ہیں، جو انسانی روح کو تڑپا دینے والے ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ جب وہ محض پندرہ سال کی تھی، اسے تل ابیب کے تہہ خانوں میں ایک بستر سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اس نے انکشاف کیا کہ ربی اور اس کے ساتھیوں نے ایک سانپ کو ذبح کر کے اس کا خون اس کے خون میں ملایا اور پھر اسے پیا، جبکہ اس دوران اسے زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے مقدس برتن کہا جاتا تھا۔
ایک اور متاثرہ نے بتایا کہ اسے بجلی کے جھٹکوں اور کوڑوں سے مارا جاتا تھا اور مذہبی رہنما اسے یہ کہتے تھے کہ وہ ناقص ہے، جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ انتہا پسند مذہبی گروہوں کے اندر ہونے والے بدترین استحصال کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










