آبنائے ہرمز میں ایران کی جدید تیز رفتار کشتیاں امریکی بحریہ کیلئے درد سر بن گئیں

آبنائے ہرمز میں ایران کی چھوٹی مگر انتہائی تیز رفتار کشتیوں نے امریکی بحریہ کے لیے ایک نیا دردِ سر پیدا کر دیا ہے، جہاں یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس کشتیاں سمندری غاروں میں چھپ کر کسی بھی وقت بڑے حملے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
آٹھ اپریل کی نازک جنگ بندی کے دوران خلیج فارس کی لہروں تلے ایک خاموش مگر خوفناک خطرہ پرورش پا رہا ہے۔ ایران کی مچھر فوج کہلانے والی چھوٹی اور ریڈار کی نظروں سے بچ نکلنے والی تیز رفتار کشتیاں سمندری غاروں میں گھات لگائے بیٹھی ہیں۔
فروری سے جاری چالیس روزہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران کا یہ بحری بیڑہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اس بیڑے کا سب سے خطرناک ہتھیار حیدر ایک سو دس نامی کشتی ہے، جو کاربن فائبر سے بنی ہے اور ایک سو دس ناٹ یعنی دو سو تین کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ یہ دنیا کی تیز ترین جنگی کشتی ہے، جو پچاس کلومیٹر کی دوری سے بحری جہاز شکن میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان شدید لڑائی، امریکی جہاز پسپائی پر مجبور
ایران کے اس اسلحہ خانے میں سرخ بھڑوں کے نام سے مشہور عاشورہ کلاس کشتیاں بھی شامل ہیں، جو راکٹ لانچرز سے لیس ہیں۔
اس کے علاوہ طارق اور تندر جیسی کشتیاں ایک سو بیس کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس کی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یا مہدی نامی بغیر ملاح کے چلنے والی ڈرون کشتیاں ہیں، جو خودکش حملوں کے ذریعے امریکی دفاعی نظام کو مفلوج کر سکتی ہیں۔
امریکی حملوں کے باوجود ایران نے ان کشتیوں کو فارور جزیرے کے بنکروں اور خفیہ غاروں میں محفوظ رکھا ہے۔ ایران کی جانب سے ان کشتیوں کی بڑے پیمانے پر تیزی سے پیداوار نے نقصانات کے ازالے کو ممکن بنا دیا ہے۔
80 کی دہائی کی ٹینکری جنگ کی حکمت عملی کو جدید رنگ دے کر ایران نے عالمی تیل کی سپلائی کے بیس فیصد راستے کو اربوں ڈالر مالیت کے امریکی بحری بیڑوں کے لیے قبرستان بنانے کی تیاری کر لی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










